
|
بورڈ آف گورنرز کیخلاف اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے تحت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
|
لاہور: اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام بورڈ آف گورنرز کیخلاف پریس کلب کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں سینکڑوں طلبہ نے شرکت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی اداروں کی نجکاری کسی صورت نہیں ہونے دی جائے گی۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اور کتبے اٹھا رکھے تھے جس پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف اور تعلیمی اداروں کی نجکاری، ان میں بورڈ آف گورنرز کے قیام کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھر پور نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ تعلیم دشمن فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔ مظاہرے کا مقصد تعلیمی اداروں کی نجکاری اور ان میں بورڈ آف گورنرز کے قیام کو روکنا تھا۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم اخضر نذیر نے کہا کہ نجکاری کا یہ عمل امریکی ڈکٹیشن پر اس ملک کے باصلاحیت، ہونہار، ذہین لیکن غریب اور محب وطن طلبہ و طالبات کو علم کے زیور سے آراستہ ہونے سے روکنے کیلئے ہے کیونکہ سامراجی قوتوں نے جان لیا ہے کہ پاکستان میں مستقبل کی اصل قیادت غریب کے ہاتھ میں ہے جس کی قیمت لگا نا آسان نہیں ہے اس لئے انہوں نے کھیل ہی ایسا کھیلا ہے کہ علم حاصل کرنا غریب کی پہنچ سے دور ہو جائے لیکن جمعیت نے ماضی میں بھی طلبہ کا ساتھ دیا تھا اور اس مشکل گھڑی میں وہ ایک بار پھر طلبہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی دو وقت کی روٹی مشکل سے پوری ہوتی ہے تو مہنگی فیسیں کہاںسے ادا کی جائیں گی۔ حکومت اپنی شاہ خرچیاں کم کر دے تو تعلیمی اداروں کی نجکاری کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں کہ کا لجز کی نجکاری نہیں خود مختاری کی جارہی ہے حقیقت میں یہ تصویر کے دو رخ ہیں اور دونوں صورتوں میں کالجز کے انتظامی امور پرائیوٹ سیکٹر کے ہاتھ میں چلے جائیں گے جس سے تعلیم کے شعبہ میں ایک گروپ کو اجارہ داری حاصل ہو جائے گی۔ پہلے پرائیوٹ کئے ہوئے کالجز سے کوئی ایسا شاندار خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا ہے کہ مزید کالجز کو پرائیوٹ کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ ایسا کرنے سے صرف اور صرف فیسوں میں اضافہ ہو گا اور کچھ بھی نہیں۔ جب کے دوسری طرف امتحانی نتائج بدتدریج تنزلی کی طرف جاتے جائیں گے جیسا کہ پرائیوٹ کالجز میں ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چار سالہ بی ایس کا پروگرام یورپ وغیرہ میں قابل قبول ہو سکتا ہے لیکن پاکستان میں نہیں کیونکہ یہاں یونیورسٹیاں دیگر یونیورسٹی کی ڈگری قبول نہیں کرتی ہیں تو کیا ضمانت ہے کہ کالج کی چار سالہ ڈگر ی کو قبول کیا جائے گا اور بالفرض ایسا ہوتا بھی ہے تو اس سے تو ڈگریوں کی مچھلی منڈی لگ جائے گی۔ جس سے نوکریاں تو نہیں لیکن نوجوانوں کے ذہنی تناؤ میں اضافہ ضرو ر ہو گا۔ لہذا ہما را حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر تعلیمی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ، ان میں بورڈ آف گورنرز کے قیام کا فیصلہ واپس لے اور تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے فیسوں میں حالیہ ہونے والا اضافہ واپس لے اور غریب باصلاحیت نوجوانوں کیلئے تعلیم کے شعبہ کو آسان بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اسی طرح ڈھیٹ رہی اور اس نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو پھر طلبہ کا احتجاج اور غم وغصہ بڑھ جائے گا۔ جس کے بعد حالات کہ ذمہ دار حکومت خود ہوگی۔ |
|
Date : 2010-07-28
|

|
|

copyright © Islami Jamiat Talaba Pakistan
|